وزیر اعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ
جولای ۲۰۱۹ پاکستان کے لیےاس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ وریز اعظم پاکستان عمران خان کا امریکہ کا دورہ ہورہا ہے اور ۲۲ جولای کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔
ایسے وقت میں ایک قادیانی عبد الشکور کی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کرای گییٔ اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وایرل ہوا ۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عام آدمی خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اس طرح صدر ٹرمپ سے ملاقات کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ پھر یہ اہتمام کس نے کروایا اور کیوں اروایا؟ اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ عبد الشکور اردو میں گفتگو کر رہا تھا اور انگریزی میں ترجمہ کرنے والا گورنر سلمان تاثیر کا بیٹا شان تاثیر تھا۔ اس سے تو یہ بات واضح ہو گییٔ کہ سالمان تاثیر کو قتل غلط نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اسی بیج کا پودا ہے جو آج تناور درخت بن کر مسلمانوں کے خلاف بکواس کر رہا ہے اور اپنے ٹویٹ میں لکھتا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے عبد الشکور کی ترجمانی کی۔
اس خباثت کے پیچھے یقیناََ ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ان میں پاکستان کی اندرونی قوتیں اور بیرونی قوتیں شامل ہیں۔ جو یہ چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں یہ سوال بھی اٹھایا جاےکہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ نا روا سلوک ہو رہا ہے۔
ہمارے وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ ناموسِ رسالت ﷺکو مقدم رکھیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کا دباو قبول نہ کریں، بے شک دورۂ امریکہ ناکام ہوتا ہے تو ہو جاے مگر حضور ﷺ کے ناموس پر کوی آنچ نہ آنے پاۓ۔